ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / خلیجی خبریں / اتر پردیش اسمبلی کے آج سے شروع ہونے والے اجلاس کے ہنگامہ خیز ہونے کا امکان 

اتر پردیش اسمبلی کے آج سے شروع ہونے والے اجلاس کے ہنگامہ خیز ہونے کا امکان 

Mon, 15 May 2017 01:14:53    S.O. News Service

لکھنؤ:14/مئی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) اتر پردیش اسمبلی کا اجلاس آج سے گورنر رام نائیک کے خطاب کے ساتھ شروع ہو گا۔سیشن میں ہنگامے کے آثار ہیں کیونکہ اپوزیشن پارٹیوں نے قانون وانتظام کے مسئلہ کو زوروشور سے اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔اپوزیشن کے ہنگامے کے خدشہ کو دیکھتے ہوئے حکومت نے جوابی حملے کے مقصد سے متعلقہ دستاویزات اکٹھا کرلیا ہے۔ 403رکنی اسمبلی میں بی جے پی اور اس کی  اتحادی جماعتوں کی 325سیٹیں ہیں۔اپوزیشن کے کسی حملے کا جواب دینے کے لیے پارٹی کی حکمت عملی طے کرنے کے مقصد سے بی جے پی پارٹی اراکین کی میٹنگ ہوئی، حکومت کی دو ماہ کی حصولیابیوں سے سیشن کے دوران ارکان کو آگاہ کیا جائے گا۔اپوزیشن بی ایس پی اور سماجوادی پارٹی نے بھی حکومت کو گھیرنے، خاص طورپر قانون وانتظام کے محاذ پر حکومت کو گھیرنے کی حکمت عملی طے کرنے کے لیے اپنے اراکین اسمبلی کی میٹنگ کی ہے۔بلند شہر، سہارنپور، گونڈہ اور سنبھل میں حالیہ نسلی اور فرقہ وارانہ کشیدگی کا مسئلہ اٹھائے جانے کاامکان ہے۔غورطلب ہے کہ سابقہ ایس پی حکومت کی حکمرانی کو غنڈہ راج کہنے والی بی جے پی قانون وانتظام کو درست کرنے کے وعدے کے ساتھ ہی حکومت میں آئی تھی۔سابق وزیر اعلی اکھلیش یادو نے کہاکہ ہمیں غنڈہ پارٹی بتایا جاتا ہے، یوگی جی کی حکومت میں کیا ہو رہا ہے؟ کیا وہ کارروائی کریں گے؟انہوں نے کہا کہ ہماری تعداد کم ہے، لیکن حوصلے بلند ہیں، قانون وانتظام کے معاملے پر ایس پی حکومت کو گھیرے گی۔اکھلیش نے دعوی کیا کہ جرائم کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، بھگوا رومال پہنے لوگ جرائم کوانجام دے رہے ہیں اور پولیس پر بھی حملہ کر رہے ہیں۔اسمبلی میں بی ایس پی لیڈر لال جی ورما نے کہا کہ پارٹی ممبران اسمبلی قانون وانتظام کے معاملے اور دلتوں پر مظالم کے مسئلہ کو اٹھائیں گے۔گورنر اسمبلی کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے، اس دوران وہ بی جے پی حکومت کی حصولیابیوں کا ذکر کریں گے۔


Share: